Sunday, 4 December 2016

باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کر کے
خود بھی رویا وہ بہت ہم سے کنارہ کر کے
سوچتا رہتا ہوں تنہائ میں انجام خلوص
پھر اسی جرم محبت کو دوبارہ کر کے

جگمگا دی ہیں تیرے شہر کی گلیاں میں نے
اپنے ہر عشق کو پلکوں پہ ستارا کر کے
دیکھ لیتے ہیں چلو حوصلہ اپنے دل کا
اور کچھ روذ تیرے ساتھ گزارا کر کے
ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیں
دیکھتے ہیں ساجد یہ اذیت بھی گوارا کر کے

No comments:

Post a Comment